Sugar ka Desi Ilaj

شوگر کا دیسی علاج

359524895

Sugar or Diabetes!

Sugar agarcha aik purana maraz hai aor tibb e qadeem mien bhi is ka zikar ata hai lakin as sadi mien ye aik aam maraz ki hesiyat ikhtiyar kr chuka hai. Pakistan mien sugar awr blood pressure qaumi bimariyon ki shakal ikhtiyar kr chuki hain. Ye bimari agarcha itni muhlik nahi lakin preshan kun buhat hai is ka asar jisam ke tamam aza pr parrta hai, lakin gaza pr control aor munasib dawaon ki waja se is pr qabu paya ja sakta hai.

Sugar Kya Hai?

Sugar jism e insani mien peda hone wali as kharabi ko kehte hain jis se carbohydrates nami jisam ko taqat dene waly gazai anasir jisam ke istemal mien nahi aate, yani is bimari ki waja se jisam in qowat bux gazai anasir sy faida uthane ke qabil nahi rehta.

Sugar Ke Mareez Ko Itni Piyas Qiun Lagti Hai?

Is ki waja kimyavi hai quinkeh jab khon mien shakar aor ceston acid barrh jate hain tu jisam ko is qisam ky thos ajza ke matwazan karne ke leye ziyada pani ki zarorat hoti hai.

Sugar Ke Bare Mien Chand Zarori Batien!

Sub se pehle yeh jan'na zarori hai keh sugar ki kimyavi tarkeeb kia hai, takeh is ki zarorat aor ehmiyat ka pata chal sake aor is ke ilaj mien asani ho.

Sugar Ke Mareez Ki Chand Khasosiyat!

Sugar ke mareez ko aam logon ki nisbat nend ziyada aaya krti hai.

Sugar Ki Iqsam!

Mahrin e tibb ne sugar ky asbab ke pesh e nazar is maraz ki mandrja zail iqsam biyan ki hain.

Sugar Ki Alamat o Nishaniyan!

Ye baat mushahde mien aai hai keh ye bimari aahista aahista namudar hoti hai.

Sugar Ki Wajohat!

Mualjeen ka khiyal hai keh no sirf cheni aor musaffa carbohydrates ziyada khane se hi sugar lahiq nahi hoti balkeh proteins aor fats ziyada khane se bhi aesa ho jata hai.

Sugar Ki Tashkhees!

Jonhi aap ko shak guzre tu foran peshab (urine) test karwaien.

Perhaiz aor Ilaj!

Sugar ka maraz chunkeh gazai bigarr se peda hota hai is waja se is ka ilaj bhi gazai sudhar se ho ga.

Gaza Ke Mutaliq Mazeed Mashware!

Agar farba jisam ke mareez ke rozmara hararon ki maqdar ko kam karne ke baad bhi peshab mien shakar aati rahe tu ye nahi samajhna chaheye keh mareez ki gaza darust nahi.

Insuline Sugar Ka Ilaj Nahi!

Aakhir mien ye baat zehan nasheen kar lene chaheye keh lablaba wagera ki ratubat hi insuline kehlati hai.

شوگر یعنی ذیابیطس

ذیابیطس اگرچہ ایک پرانا مرض اور طبِ قدیم میں بھی اس کا ذکر آتاہے لیکن اس صدی میں یہ ایک عام مرض کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ بلکہ پاکستان میں شوگر اور بلڈ پریشر قومی بیماریوں National Diseases کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔یہ بیماری اگرچہ اتنی مہلک نہیں لیکن پریشان کن بہت ہے۔اس کا اثر جسم کے تمام اعضاء پر پڑتاہے۔لیکن غذا پر کنٹرول اور مناسب دواؤں کی وجہ سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔جرمنی کے ایک ڈاکٹر کونہم ؔ نے اپنے وسیع تجربات سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ لبلبہ کی اندرونی رطوبت ناقص پیدا ہونے سے یا کسی وجہ سے اس کے عضلات تک نہ پہنچنے سے عضلات میں شکر کا تغذیہ نہیں ہوتا بلکہ گُردوں کی راہ سے پیشاب خارج ہو جاتا ہے۔نیز کسی حیوان کے جسم سے اگر لبلبہ کو نکال دیا جائے تو اس کو فوراٌ شکر آنے لگتی ہے۔

ذیابیطس(شوگر) کیا ہے؟


ذیابیطس جسمِ انسانی میں پیدا ہونے والی اس خرابی کو کہتے ہیں، جس سے کاربوہائیڈریٹس نامی جسم کو طاقت دینے والے غذائی عناصر جسم کے استعمال میں نہیں آتے، یعنی اس بیماری کی وجہ سے جسم ان قوت بخش غذائی عناصر سے فائدہ اٹھانے کے قابل نہیں رہتا۔ کاربوہائیڈریٹس Carbohydratesہمارے نظامِ ہضم کے ذریعے شوگر میں تبدیل ہوتے ہیں، یہ شوگر خون میں جمع ہونے لگتی ہے اور پیشاب کے ساتھ خارج ہونے لگتی ہے۔یہ صورت حال جسم میں انسولین Insuline کی کمی یا قریباٌ خاتمے کی وجہ سے جنم لیتی ہے۔ اس تمام صورت حال میں پنکریاز Pancreasیا لبلبہ کے دخول کی بہت اہمیت ہے۔لبلبہ میں چھوٹی چھوٹی خون کی نالیوں کا جال ہے۔یہ خون کی نالیاں مل کر ایک بڑی نالی کی صورت میں آنت کے ابتدائی حصہ میں کھلتی ہیں۔ان میں سے ایک جوس یا ہارمونHarmoneکا خراج ہوتا ہے جیسے انسولینInsulineکہتے ہیں۔یہ دوران خون میں شامل ہو کر گلوکوز کو جلاتی ہے۔اگر انسولین کی مقدار خون میں کم ہو جائے تو شکر یا گلوکوز کی مقدار خون میں زیادہ ہو جاتی ہے اور پیشاب میں بھی شکر آنا شروع ہو جاتی ہے۔اسی کو ذیابیطس یا شکر آنا کہتے ہیں۔انگریزی میں اسے Diabetesکہتے ہیں۔زمانہ قدیم میں اس کو Melting Diseaseیعنی جسم کو پگھلادینے والی مرض کہتے تھے کیونکہ اس مرض میں مریض پیشاب میں شکر آنے کی وجہ سے اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔

جسم میں شوگر کی مقدار معلوم کرنے کے لئے صبح کے ناشتہ سے قبل بلڈ گلوکوز لیول معلوم کرنا اور ناشتہ کے دو گنٹھے بعد دوبارہ چیک کرنے کا طریقہ مروج ہے۔ناشتہ سے قبل شوگر کی نارمل مقدار100ملی لیٹر خون میں80ملی گرام سے 120ملی گرام تک ہوتی ہے۔اور ناشتہ کے دو گنٹھے بعدیہ 180 ملی گرام تک جا پہنچتی ہے۔جس شخص کے خون میں شوگر اس تناسب سے اوپر چلی جائے، وہ ذیابیطس کا مریض ہے۔ذیابیطس عمر کے کسی بھی حصے میں لاحق ہو سکتی ہے۔بچے، نوجوان اور بوڑھے سب اس مرض کا شکار ہو سکتے ہیں، اور ہیں۔لیکن زیادہ تر افراد درمیانی عمر یا بڑی عمر میں اس کے مریض بنتے ہیں۔چنانچہ اس مرض کے مریض 80سے85% تک 45سال یا اس سے زائد عمر کے لوگ ہیں۔اعداد وشمار کے مطابق بیسویں صدی کے شروع میں انسان کو ہلاک کرنے کی ستائیسویں وجہ ذیابیطس تھی،لیکن اب یہ پانچویں نمبر پر آگئی ہے۔


دورِجدید میں انسان نے تن آسانی اور آرام پسندی کو اپنی زندگی کا شعار بنا لیا ہے اور مال ودولت کی بہتا ت کی وجہ سے اس کی خوراک کی مقدار میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔بلکہ اگر موجودہ زمانے کی ترقی کا تجزیہ کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ انسان نے ڈرائنگ روم سے باتھ روم تک ترقی کی ہے۔خوراک کی مقدار میں اضافہ نے اس میں موٹاپا Obesity پیدا کیا ہے، جس سے ذیابیطس کے مرض میں اضافہ ہوا ہے۔ 


شوگر کے مریض کو اتنی پیاس کیوں لگتی ہے؟


اس کی وجہ کیمیاوی ہے کیونکہ جب خون میں شکر اور کیسٹون ایسڈ بڑھ جاتے ہیں تو جسم کو اس قسم کے ٹھوس اجزاء کے متوازن کرنے کے لئے زیادہ پانی کی ضرورت ہو تی ہے۔مریض جب اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے پانی پیتا ہے تو جسم پانی پہنچتے ہی گُردے حرکت میں آجاتے ہیں اور اس پانی کو باہر نکال دیتے ہیں۔اس طرح شکرSugarپیشاب کے ذریعہ باہر نکل جاتی ہے اور اپنے ساتھ زیادہ مقدار میں پانی کو بھی باہر بہا کر لے جاتی ہے۔اس طرح پیاس میں شدت پیدا ہوتی ہے۔
ایسی حالت میں جسم کا وزن کم ہونے کی وجہ بھی واضح ہے کیونکہ اس وقت جسم کو اپنی ذخیرہ شدہ انرجی کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔جسم میں طاقت کی کمی کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ منہ کے ذریعہ کھائی گئی خوراک میں سے شکر خلیوں کو حاصل نہیں ہوتی۔مریض میں چڑچڑا پن، چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آنا اور تھکاوٹ محسوس کرنا جیسی علامات ملتی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دماغ اور مرکزی اعصابی نظام کو غذائی اجزاء نہیں ملتے،اس وجہ سے یہ سب کچھ ہوتا ہے۔
ان علامات کے ساتھ ساتھ کچھ اشارات بھی ان مریضوں میں ملتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ مریض ذیابیطس میں مبتلا ہے۔کچھ عورتوں میں اندامِ نہانی کی سوزش Vaginitisاور مردوں میں عضو تناسل Penisکے آخری حصہ کی سوزش دیکھنے میں آتی ہے جیسا کہ ہم نے اس مرض کی علامات میں بیان کیا ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے چونکہ پیشاب میں شکر آنے کی وجہ سے اعضائے تولید Reproductive Organs شکر سے اٹ جاتے ہیں اور گلوکوز پھپھوندی لگنے کے لئے ایک Cultureکا مقام رکھتا ہے، اس لئے ذیابیطس کے مریض میں اعضائے تولید کی سوزش یا خارش عام دیکھنے میں آتی ہے۔


ذیابیطس کے بارے میں چند ضروری باتیں


سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ شوگر کی کیمیائی ترکیب کیا ہے۔تاکہ اس کی ضرورت اور اہمیت کا پتہ چل سکے۔اور اس کے علاج میں آسانی ہو، سو جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ کاملہ سے کاربن (کوئلہ)اور پانی کو ملا کر شکر بنا دی ہے۔اگر شکر کو کسی برتن میں رکھ کر آگ پر گرم کریں تو حرارت سے اس کا پانی اُڑ جاتا ہے اور باقی کاربن رہ جاتا ہے۔دوسری بات یہ جاننا ضروری ہے کہ عضلات ہی سارے جسم میں ایسے اعضاء ہیں جن کی غذا پانی اور کاربن ہے۔دوسرے لفظوں میں اس کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ عضلات کاربن اور پانی کی ترکیب سے بنے ہوئے ہیں۔جب کاربن جلتی ہے تو عضلات میں حرکت اور تیزی پیدا ہوتی ہے، حرارت پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ عضلات میں شکر موجود ہوتی ہے۔اس لئے جب عضلات حرکت کرتے ہیں تو حرارت پیدا ہوتی ہے،اور شکر کم ہوتی ہے۔ یعنی عضلات کے حرکت کرنے سے شکر صرف(خرچ)ہوتی ہے، تو کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی میںمنتشر ہو جاتی ہے۔اس وقت کاربن ڈائی آکسائیڈ سانس کے ذریعہ باہر خارج ہوتی ہے۔اور بدن کے مسامات کے ذریعہ پسینہ کی صورت میں پانی خارج ہو جاتا ہے۔

جدید تحقیق سے یہ پتہ چلا ہے کہ خون سے زیادہ عضلات میں شکر ہوتی ہے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ عضلات میں اس قدر زیادہ شکر کیوں ہوتی ہے؟وہ اس لئے کہ ہمارے بدن میں عضلات ہی کہ غیر معمولی محنت و مشقت کرنا پڑتی ہے۔اگر شکر کم ہوجائے تو اس کا کام رُکسکتا ہے۔ چنانچہ جب کسی وجہ سے عضلات میں شکر کم ہو جاتی ہے تو خود عضلات تحلیل ہونے لگتے ہیں، جس سے شدیدنقاہت اور کمزوری ہونے لگتی ہے۔بعض دفعہ دل بیٹھ جاتا ہے اور اس کو ہارٹ فیل ہونا کہتے ہیں۔اگر خون میں مناسب شکر رہے تو وہ عضلات میں ضرورت کے مطابق سٹورہوتی رہتی ہے اور پھر یہی شکر چربی میں تبدیل ہو جاتی ہے اور عضلات موٹے اور فربہ ہوجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ نشاستہ دار غذائیں جیسے چاول اور مٹھائی وغیرہ کثرت سے کھاتے ہیں، وہ اکثر موٹے ہو جاتے ہیں۔کیونکہ نشاستہ شکر میں اورشکر چربی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔جو عضلات میں جمع رہتی ہے اورجس سے جسم سڈول ، خوبصورت اور چُست رہتا ہے۔وہ اشخاص جن کو شوگر نہیں آتی، ان کے کون سے اعضاء تیز یا درست ہوتے ہیں کہ میٹھی اشیاء اور شکر کھانے کے باوجود انہیں شوگر کا مرض نہیں ہے۔اس کے برعکس وہ حضرات جنہیں شوگر آتی ہے، ان کے کون سے مفرد اعضاء سست اور کمزور ہو جاتے ہیں کہ انہیں شوگر کا مرض ہو جاتا ہے۔اور میٹھی اور شکر والی اشیاء نہ کھانے کے باوجود انہیں مسلسل پیشاب اور خون میں شوگر بڑھتی رہتی ہے۔


تجربات اور مشاہدات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر بعض حیوانات کے اندر سے جگر نکال دیا جائے توخون میں جو شکر یا مٹھاس طبعی مقدار میں ہوتی ہے وہ فوراٌ غائب ہو جاتی ہے۔اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ خون میں شکر کا توازن جگر کے افعالِ طبعیہ سے قائم ہے ۔اور جن لوگوں کو شوگر آنے لگتی ہے ان کے جگر سست اور کمزور ہو جاتے ہیں، لہٰذا جب کسی وجہ سے جگر خراب یا کمزور ہو جاتاہے تو وہ غذا سے شکر بنانے کا عمل جسے عرفِ عام میں شکر کبدی بنانا کہتے ہیں، ناقص ہوجاتاہے۔ اور وہ اسے جزوبدن نہیں بنا سکتا۔اور اگر کسی حیوان کے پیٹ سے لبلبہ نکال دیا جائے تو اس کے پیشاب میں فوراٌ شوگر آنے لگتی ہے۔اس سے پتہ چلا کہ شوگر کو جسمِ انسانی میں کنٹرول کرنے والی چیز لبلبہ ہے۔جگر و غدہ ہونے کی حیثیت سے جسمِ انسانی کے دوسرے تمام غدود کی نسبت سے بہت بڑا ہے۔اور جسمِانسانی میں اس کے تین اہم افعال ہیں۔

(الف) خون کو تکمیل تک پہنچانا اور اس کو سرخ رنگنا، یعنی اس میں سرخی پیدا کرنا، جب تک کیلوس جگر سے نہ گزرے اس وقت تک نہ وہ پختہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس میں سرخی پیدا ہوتی ہے۔(ب) صفراء اور سوداء بنانا اور روغنی، لحمی، شکری اجزاء کا ہضم کرنا ۔ (ج) حرارتِ جسم کی حفاظت کرنا اور ضرورت کے مطابق اس کو جسم میں تقسیم کرنا ۔یہ سارے افعال اس کے ان خلیات سے انجام پاتے ہیں جن سے وہ بنا ہوا ہے۔پھر جگر کا دل و دماغ سے گہرا تعلق ہے۔جس کا ثبوت ان عصبی ریشوں اور غشاء مخاطیMucous Membarne سے ملتا ہے۔جو اس میں پھیلے ہوئے ہیں، اس لئے دل ودماغ کے افعال کا اثر جگر پر پڑتا ہے۔اور جگر کے افعال کا اثر دل ودماغ پر پڑتا ہے۔چنانچہ یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ جن لوگوں کی عمریں طویل ہوتی ہیں ان کے جگر نہایت اچھی حالت میں ہوتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جگر کے افعال کی ذاتی درُستی یا نظریہ غذا کے تحت جگر کو قیامِ شباب اورطوالتِ عمر سے گہرا تعلق ہے۔جسم انسانی میں غدود کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ 

(الف) ایسے غدود جو رطوبت اورفضلات کو جسم سے باہر خارج کرتے ہیں جیسے جگرخون سے فضلات باہر خارج کرتا ہے،ایسے غدود کو نالی دار غدود کہتے ہیں۔(ب) دوسرے وہ غدود ہیں جو کیمیائی طور پر اپنی رطوبات خون میں شامل کردیتے ہیں۔جیسے طحال (تلی) اور لبلبہ وغیرہ۔ان کو غدود کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔جن کی رطوبات خون میں شامل ہوتی ہیں، ان میں طحال، لبلبہ، تھائیرائیڈ گلینڈز ، پیراتھائی رائیڈ گلینڈز، غدہ نخامیہ(پیچوٹری گلینڈز)شامل ہیں۔ان غدود سے جو رطوبت کیمیائی طور پر خون میں شامل ہوتی ہے، انہیں ہارمونز کہتے ہیں، چنانچہ تھائی رائیڈ گلینڈز کی رطوبت اگر بند ہو جائے تو کزازی تشنجوں ہی سے انسان کی موت واقع ہو جائے۔اور اگر غدہ نخامیہ کی رطوبت بند ہو جائے تو بھی انسا ن کی موت واقع ہو جائے۔کلاہ گردہ اگر اپنی رطوبت بند کردے تو ضعفِ قلب اور خرابیِ رنگ کے امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔طحال کی رطوبت اگر خون میں شامل نہ ہو تو خرابیِ ہضم، ضعفِ قلب اور رنگت میں سیاہی مائل اور مالیخولیا Melancholia ہو جاتا ہے۔لبلبہ کی رطوبت کے رُک جانے سے ذیابیطس ہو جاتا ہے۔

موجودہ تجربات اور تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ شوگر چاہے کسی غذا یا دوا کے کثرتِ استعمال سے ہو، چاہے کسی عضو کی خرابی سے ہو۔ہر صورت میں غدود و جگر کے کیمیائی میزان (غدودِ جاذبہ)اور مشینی نظام(غدودِ ناقلہ)کے بگاڑ سے ہوا کرتی ہے۔ان میں اگر غدودِ جاذبہ کے فعل اور نظام میں تیزی آجائے تو غذا میں کھائی ہوئی شوگر یا مٹھاس اور نشاستہ وغیرہ سے بنا ہوا گلوکوز غدودِ جاذبہ کی رطوبات (صفراء)سے تحلیل اور ہضم ہو کر جزوبدن ہوتا رہتا ہے۔اس کے برعکس اگر جگر کے مشینی نظام (غدودِ ناقلہ) کے فعل میں تیزی آجائے تو غدودِ جاذبہ کی پیدا کردہ رطوبات ضرورت سے زیادہ خون سے خارج ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔جس سے غذا میں کھائی ہوئی شوگر یا مٹھاس اور نشاستہ وغیرہ سے بنا ہوا گلوکوز خون میں تحلیل اور ہضم ہو کر جزوبدن بننے کے قابل نہیں رہتا،بلکہ خون میں کچا رہ جاتا ہے۔طبیعتِ انسانی مدبرہ بدن ہوتے ہوئے اسے فالتو سمجھ کر گُردوں اور مسامات کے رستہ میں خارج کر دیتی ہے۔

ان حقائق کی روشنی میں پتہ چلا کہ مٹھاس اور شوگر کی جس قدر مقدار ہم کھاتے ہیں یا نشاستہ وغیرہ سے جس قدر گلوکوز بنتا ہے وہ سب کا سب غدودِ جاذبہ (لبلبہ و تلی)کی رطوبت ملنے سے جزوبدن بننے کے قابل ہوتا ہے اور اعضاء کی غذا بنتا ہے اور اعضاء اس سے پوری طرح نشوونما پاتے ہیں۔یہی مٹھاس اور نشاستہ وغیرہ گلوکوز وغیرہ میں تبدیل ہو کراور خون میں تحلیل اور ہضم ہو کر چربی بنتے ہیں۔اور گوشت اور عضلات میں جمع ہوتے رہتے ہیں۔چونکہ تمام شوگر وغیرہ جزوبدن بن جاتی ہے۔اس لئے گُردوں کے رستہ سے پیشاب میں یا مسامات میں سے پسینہ کہ ذریعے خارج نہیں ہوتی۔اگر غدودِ جاذبہ کے افعال اعتدال پر رہیں تو انسان کی صحت قابلِ رشک ہوتی ہے۔اور ہر شخص اس کی صورت کی تعریف کرتا ہے۔لیکن اگر غدودِ جاذبہ کے افعال میں ضرورت سے زیادہ تیزی آجائے تو صفراء اور حرارت کی مقدار خون اور جسم میں بڑھ جاتی ہے۔جس کے نتیجے میں خون کے سُرخ ذرات کم بنتے ہیں اور جسم کا رنگ ذرد اور پیلا ہو جاتا ہے۔بلکہ اکثر مریضوں کو یرقان ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ کئی بیماریاں جیسے، خفقانِ قلب، وجع المفاصل، بول کی کمی کی شکایت وغیرہ لاحق ہو جاتی ہیں۔بلکہ بعض مریضوں میں تو پیشاب پیدا ہی نہیں ہوتا۔مجبوراٌگُردوں کو واش کرانا پڑتا ہے۔

اس کے برعکس اگر جگر کے مشینی نظام (غدودِ ناقلہ) میں ضرورت سے زیادہ تیزی آجائے تو صفراء اور حرارت کا خون میں سے اخراج بڑھ جاتا ہے۔صفراء کی پیدائش کم ہو جاتی ہے، چونکہ صفراء اور حرارت کا اخراج معدہ و امعاء میں بڑھ جاتا ہے۔اس لئے کھائی ہوئی غذا معدہ و امعاء میں تین گھنٹے کی بجائے نصف گھنٹے میں ہضم اور تحلیل ہو جاتی ہے۔اور اب اس کا معدہ واعضاء میں ٹھہرنا فضول ہو جاتا ہے۔لہٰذا طبیعت مدبرِ بدن ہونے کے ناطے عروق ماساریقا کے ذریعہ اسے خون میں داخل یا جذب کرانا چاہتی ہے، لیکن چونکہ اس غذائی ہضم شدہ مواد کا قوام گاڑھا ہوتاہے جسے غدود جاذبہ یا عروق ماساریقا ء Mesentery جذب نہیں کر سکتے، لہٰذا طبیعت باہر سے پیاس کی صورت میں پانی طلب کر لیتی ہے۔مریض کو پیاس لگتی ہے۔وہ پانی پیتا ہے اور کچھ کیلوس پتلا ہو کار جذب ہو جاتا ہے لیکن باقی گاڑھا ہوتا ہے، لہٰذا چند منٹ بعد مزید پیاس لگتی ہے اور مریض بامر مجبوری ایک دو گلاس پانی پیتا ہے جس سے معدہ اور امعاء کا کیلوس پتلا ہو کر عروق ماسایقا کے ذریعہ جذب ہو کرخون میں چلا جاتاہے۔

یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک تمام کیلوس ختم نہیں ہو جاتا۔جب کیلوس ختم ہو جاتا ہے تو پیاس مر جاتی ہے۔دوسری طرف پانی سے بار بار پتلا کیا ہوا کیلوس خون میں دورہ کر رہا ہو تا ہے۔اسے اب تحلیل اور ہضم ہو کار جزوبدن بننا ہوتا ہے، لیکن وہ خون کے اندر پوری طرح ہضم یا تحلیل ہو کر جزوبدن بننے کے قابل نہیں ہوتا، لہٰذا خون کا یہ کچا مواد گُردوں اور مسامات کے راسہ سے خارج ہونے لگتا ہے۔چونکہ خون میں آیا ہوا کیلوس اور کیموس اپنی ماہیت میں شیریں اور میٹھا ہوتا ہے۔اس لئے جب وہ پیشاب کے راستہ سے خارج ہو تا ہے تو وہ پیشاب کو میٹھا کر دیتا ہے۔ چنانچہ جب پیشاب ٹیسٹ کیا جاتا ہے تو شوگر نکلتی ہے اورچونکہ پانی بار بارپیا ہوتا ہے اس لئے پیشاب بار بار آتا ہے اورمقدار میں بھی زیادہ آتا ہے۔اس حالت کو اطباءؔ ذیابیطس یا شوگر آنا کہتے ہیں۔


شوگر کے مریض کی چند خصوصیات


شوگر کے مریض کو عام لوگوں کی نسبت نیند زیادہ آیا کرتی ہے۔وجہ یہ ہے کہ نیند اس وقت تک نہیں آتی جب تک انسان کے دماغ میں سکون نہ ہو چنانچہ پریشان حال شخص کو نیند نہیں آتی۔وہ تارے گن گن کر رات گزارتا ہے۔شوگر چونکہ غدی (صفراوی)تحریک Glandular Stimulationسے ہوتی ہے اور غدی تحریک سے دماغ میں سکون ہوتا ہے لہٰذا شوگر کے مریض کو نیند زیادہ آتی ہے۔
دوسری خصوصیت یہ ہے کہ شوگر کے مریض کو کبھی بدہضمی نہیں ہوتی کیوں کہ غذا ہضم کرنے کے لئے حرارت اور صفراء کی ضرورت ہوتی ہے اور شوگر کے مریض کے معدہ و امعاء میں صفراء اور حرارت طبعی حالت سے زیادہ ہو اکرتی ہے۔اس لئے مریض جونہی غذا کھاتا ہے وہ فوراً ہضم اور تحلیل ہو کر خون میں جذب ہو جاتی ہے۔یہ بات ذہن میں رہے کہ غذائی بدہضمی تو اس وقت ہوا کرتی ہے جب غذا معدہ وامعاء میں دیر تک ہضم اور تحلیل ہوئے بغیر پڑی رہے اور اس میں خمیر اور تعفن پیدا ہو جائے۔
شوگر کا مریض دن بدن کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ انسان جو غذا کھاتا ہے وہ جزوبدن بن کر ہی طاقت دیتی ہے۔ بدقسمتی سے شوگر کے مریض میں یہ غذا جزوبدن نہیں بنتی بلکہ پیشاب کے راستہ سے خارج ہوتی رہتی ہے۔اور بدن کو بدل ماتیحلل نہیں ملتا۔لہٰذا شوگر کے مریض کا جسم مسلسل کمزور ہوتا جاتا ہے۔


ذیابیطس کی اقسام


ماہرین طب ؔ نے شوگر کے اسباب کے پیش نظر اس مرض کی مندرجہ ذیل اقسام بیان کی ہیں۔
ذیابیطس معوی(Intestinal Diabetes) 
یہ مرض زیادہ شکر خوری اور آنتوں کے نقائص سے پیدا ہوتا ہے۔
ذیابیطس کبدی (Hepatic Diabetes)
یہ مرض جگر کی خرابی،زیادہ خوراک اور زیادہ شراب پینے سے پیدا ہوتا ہے۔
ذیابیطس عصبی و کبدی(Cerebral & Hepatic Diabetes) 
یہ عارضہ جگر اور اعصاب کی خرابی سے پیدا ہوتا ہے۔
ذیابیطس عصبی (Cerebral Diabetes)
یہ مرض زیادہ دماغی محنت، کثرت جماع اور سر ریڑھ پر چوٹ لگنے سے پیدا ہو جاتا ہے۔
ذیابیطس نقراسی (Pancreatic Diabetes)
یہ مرض لبلبہ کے نقص یعنی چھوٹا ہو جانے سے پیدا ہوتا ہے۔اس میں مریض بالکل کمزور ہو جاتا ہے۔


شوگر کی علامات ونشانیاں


یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ یہ بیماری آہستہ آہستہ نمودار ہوتی ہے۔ یہ مرض اس وقت تشخیص ہوتی ہے جب یہ انسان پر پوری طرح اثر انداز ہو جاتی ہے۔ عموماً شروع شروع میں یہ ہوتا ہے کہ جو انسان اس مرض میں مبتلا ہوتا ہے اس کو پیاس زیادہ لگتی ہے۔ پیشاب کے وقفوں میں کمی آجاتی ہے۔ یعنی ذیابیطس کے مریض معمول سے زیادہ پیشاب کرتے ہیں۔ کمزوری ہوتی ہے۔ منہ خشک ہو جاتا ہے۔ وزن آہستہ آہستہ کم ہو جاتا ہے لیکن تمام ذیابیطس کے مریضوں میں وزن کم نہیں ہوتا بلکہ ایک قسم کے ذیابیطس میں مریضوں کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ پردے والی جگہ پر خارش زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جسم کے کسی حصے پر اگر زخم ہو جائے تو زخم دیر سے بھرتا ہے۔ زیادہ دیر تک اس مرض کے رہنے سے بینائی کمزور ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ اس بیماری سے اور بھی کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں جو کہ بالآخر انسان کی موت پر منتج ہوتی ہیں۔ حاملہ عورتوں کے معمول سے زیادہ وزنی بچے پیدا ہوتے ہیں۔

شروع شروع میں ذیابیطس کے مریض کو عام حالت میں کچھ زیادہ پیاس لگتی ہے ۔

معمول کی نسبت پیشاب باربار زیادہ مقدار میں آتا ہے۔

اکثر رات کو بھی ایک دو بار پیشاب آنے لگتا ہے ۔

مریض روز بروز کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔

جوں جوں مرض بڑھتا ہے، علامات میں بھی شدت ہوتی جاتی ہے۔

باوجود زیادہ پانی پینے کے منہ پھر بھی خشک ہی رہتا ہے۔

جتنا پانی پیتا ہے اس سے زیادہ پیاس لگتی ہے۔

منہ کا ذائقہ شیریں ہوتا ہے۔

سانس کے ذریعے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو میٹھی میٹھی بو آتی ہے۔

بھوک زیادہ لگتی ہے۔

باربار کھانا کھاتا ہے لیکن پھر بھی بھوکا ہی رہتا ہے۔

بعض دفعہ بھوک کا ہوکا ہو جاتا ہے،یعنی ادھر کھایا ادھر پھر بھوک لگ گئی۔

اس کے باوجود مریض کا ہاضمہ خراب نہیں ہوتا،لیکن قبض رہتی ہے۔

بعض دفعہ کثرتِ بول سے آنتوں میں فضلات بہت کم آتے ہیں۔

اوررطوبت کی کمی کی وجہ سے فضلہ اتنا سخت ہو جاتا ہے کہ پاخانہ بڑی مشکل سے آتا ہے۔

بعض دفعہ مجبوری کی صورت میں انیما بھی کرنا پڑتا ہے۔

حرارتِ غریزیہ Animal Heatکی کثرت اخراج کی وجہ سے جسم کا درجہ حرارت صحت کی نسبت کم ہو جاتا ہے۔

ہاتھ پاؤں سرد ہو جاتے ہیں لیکن ہتھیلیاں اور پاؤں جلتے اور گرم ہوتے ہیں۔

قلب کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔

اگر مرض شدت اختیارکر جائے تو پیشاب بار بار اور کثرت سے آنے لگتا ہے۔

اس میں شوگر دو سے اڑھائی فیصد ہوتی ہے۔

انتہائی شدید حالتوں میں 10سے12فیصدتک ہو جاتی ہے۔

پیشاب سے میٹھی بُو آتی ہے اور اس پر چیونٹیاں آتی ہیں۔

مریض دن رات میں پانچ سے سات کلو سے بھی زیادہ پیشاب کرتاہے۔

رات کے پیشاب کی نسبت دن کے پیشاب میں شکرزیادہ آتی ہے اور پیشاب بھی دن کو زیادہ اور رات کو کم آتا ہے۔

پیشاب میں شکر کے علاوہ یوریا اور فاسفیٹس کا اخراج بھی بڑھ جاتا ہے۔

چہرے کا رنگ بھی زرد اور پیلا ہو جاتاہے کیونکہ جسم میں خون کی کمی ہو جاتی ہے اور جسم کو بدل ماتیحل کم ملتا ہے۔

مرض کی شدت میں مریض کو یوں لگتا ہے کہ جیسے اس کے جسم میں پانی کی کمیDehydration ہوگئی ہو، کیونکہ جلد خشک ہو جاتی ہے۔اس کے اوپر سفید رنگ کی تہہ ہوتی ہے۔

ہونٹ خشک اور کٹ پھٹ جاتے ہیں۔

مریض جلدی تھک جاتا ہے اور وہ جسمانی اور ذہنی دونوں لحاظ سے تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔

ٹانگوں میں سنسناہٹ اور درد کا احساس ہونے لگتا ہے۔

چونکہ غدد جاذبہ میں کمزوری کی وجہ سے رطوبت کے رکھنے کی قوت کمزور ہو جاتی ہے اس لئے منی کا اخراج بھی ہونے لگتا ہے۔ 

امساک Retention قریباً ختم ہو جاتا ہے۔

جنسی خواہش ایک نارمل شخص کے مقابلہ میں کم محسوس ہوتی ہے۔

منی کا قوام پتلا اور رقیق ہو جاتا ہے اور اس کی پیدائش میں بھی کمی آجاتی ہے اور مریض نامردی Impotence کے قریب پہنچ جاتا ہے۔

عورتوں میں حیض آنا بند ہو جاتا ہے۔

جنسی اعضاء کے ارد گرد خارش کا احساس ہوتا ہے۔

موتیا بند ہو کر بینائی ناقص یا زائل ہو جاتی ہے۔

آخر میں مرض تپ دق Tuberculosisیا نمونیہ یا کثرت اسہال یا شدید ضعف یا پھر قوما میں مریض انتقال کر جاتا ہے۔

)یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ تمام علامات سب مریضوں میں پائی جائیں، بلکہ چند علامات کا پایا جانا بھی مرض کی نشاندہی کرتا ہے۔(

شوگر کی وجوہات


معالجین ؔ کا خیال ہے کہ نہ صرف چینی اور مصفاء کاربوہائیڈریٹس زیادہ کھانے سے ہی ذیابیطس نہیں لاحق ہوتی بلکہ پروٹینز Proteins اورچربیاتFatsزیادہ کھانے سے بھی ایسا ہو جاتا ہے کیونکہ پروٹینز اور چربیات کی زیادہ مقدار بھی شوگر میں تبدیل ہو جاتی ہے جو ذیابیطس کا باعث اور سبب بنتی ہے۔زیادہ غذا کھانے سے لبلبہ پر بوجھ بڑھتا ہے۔جس کی وجہ سے اس کی نارمل کارکردگی مفلوج ہو جاتی ہے۔
چنانچہ تجربہ اس بات کا شاہد ہے کہ ایک موٹے آدمی میں شوگر کے مرض کا شکار ہونے کے ایک عام آدمی سے چار گنا زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔غم، پریشانی اور بے چینی بھی اس مرض کا باعث بنتے ہیں کیونکہ فکروغم اور پریشانیوں کی وجہ سے جسم میں غذا کے جذب ہونے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے جس سے پیشاب میں شوگر آنے لگتی ہے۔موروثی اثرات بھی اس مرض کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہ بیماری اگرچہ بہت عام ہے لیکن بدقسمتی سے اس کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی پھر بھی مندرجہ ذیل چند حالات ایسے ہیں جن سے اس بیماری کے پیدا ہونے میں خاص مدد ملتی ہے۔
موروثی:
ذیابیطس خاندانی مرض ہے یعنی اگر ماں باپ میں ذیابیطس ہو تو پھر ان کے بچوں کو ذیابیطس کا مرض لاحق ہونے کے زیادہ خطرات ہوتے ہیں۔
عمر:
یہ بیماری کسی عمر میں ہو سکتی ہے لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ وہ شخص جس کی عمر پچاس یا اس سے زیادہ ہو اس میں زیادہ پائی جاتی ہے۔
موٹاپا:
موٹے آدمی میں اس کے ہونے کا امکان زیادہ ہے۔
نفسیاتی وجوہات:
وہ شخص جو ذہنی طور پر پریشان رہتا ہو اس میں ذیابیطس کے ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔


ذیابیطس کی تشخیص


جونہی آپ کو شک گزرے تو فوراٌ پیشاب ٹیسٹ کروائیں،لیکن اس ترقی یافتہ دور میں ذیابیطس کی صحیح تشخیص خون میں شکر کی مقدار معلوم کرنے سے ہوتی ہے۔یہ تشخیص بہت مفید ہے۔اگر خون میں عمومی شکر کی مقدار 250ملی گرام فی سو ملی لیٹر سے زیادہ ہو تو مریض ذیابیطس میں مبتلا سمجھنا چاہیے۔لیکن وہ مریض جن میں ذیابیطس کی بہت کم علامات پائی جائیں اور ان کے پیشاب میں شکر کا اخراج اتفاقاٌ معلوم ہوا ہو تو پھر اس شخص کے لئے خاص ٹیسٹ گلوکوزٹالرنس ٹیسٹGlocose Tolerance Testکروانا بہت ضروری ہے۔
کسی قسم کی انفیکشنInfection میں مبتلا شخص کے پیشاب میں بھی تھوڑی بہت مقدار میں شکر ضرور خارج ہوتی ہے۔اگر پیشاب کے ٹیسٹ کے دوران اس قسم کی شوگر ملے تو مریض کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ خون ٹیسٹ کرو ا کر اطمینان کر لینا چاہئے۔کیونکہ اکثر ماہرین طب ؔ کے تجربات اور مشاہدات کے مطابق دماغ کی جھلی کی انفیکشن یا ورم کے دوران پیشاب میں شکر کا اخراج ہونے لگتا ہے اور خون میں بھی اس کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔بعض دفعہ مریض پہلے سے ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہوتا ہے لیکن اس دوران اس کو انفیکشن بھی ہو جاتی ہے۔تو انفیکشن کے دوران اس کا مرض شدید ہو جاتا ہے۔

پیشاب کا معائنہ:
اس قسم کے مریض کے پیشاب میں شکر پائی جاتی ہے اور پیشاب کے معائنے سے پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ مرض کس درجے پر ہے عموماً صحت مند انسان کے پیشاب میں شوگر نہیں پائی جاتی۔

خون کا معائنہ:
عموماً انسان کے خون میں شکر 80تا 120 ملی گرام تک پائی جاتی ہے لیکن مریض میں یہ حدود بڑھ جاتے ہیں۔ ان کیمیائی نتائج پر ذیابیطس کو تین حصوں میں تقسیم کی جا سکتا ہے۔
۔معمولی علامات والی پیشاب میں شکر:1+ ایس ٹون نفی
۔درمیانی قسم کی علامات: 2+ایس ٹون نفی
۔تیسری قسم کی علامات :3+ ایس ٹون نفی


پرہیز و علاج


ذیابیطس کا مرض چونکہ غذائی بگاڑ سے پیدا ہو تاہے اس وجہ سے اس کا علاج بھی غذائی سدھار سے ہو گا۔مرض کی صحیح تشخیص ہو جانے کے بعد اورشکر کا لیول معلوم ہو جانے کے بعد اس کے علاج کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ مرض بڑھتا ہی رہتا ہے۔ علاج کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مریض کی صحت ٹھیک رہے اور اپنی غذا سے تمام اہم اجزاء اسے حاصل ہوتے رہیں۔چنانچہ سب سے پہلے اس کی غذا پر کنٹرول کرنا چاہئے۔یہ بات ذہن میں رہے کہ ذیابیطس کے 50% مریض صرف غذائی کنٹرول سے مرض پر قابو پا لیتے ہیں۔ باقی پچاس فیصد کھانے والی ادویات کے استعمال سے ٹھیک رہتے ہیں۔لہٰذا غذا کی اس مرض کے علاج میں بہت اہمیت ہے۔جن افراد کو چالیس سال سے زائد عمر میں ذیابیطس کا مرض ہو وہ غذائی پرہیز سے کنٹرول ہو جاتاہے۔خاص طور پر موٹاپے میں مبتلا افراد۔چالیس سے زائد عمر کے افراد جن میں خوراک سے بیماری کنٹرول نہ ہو رہی ہو، ان کو عموماٌ ادویات سے آرام آجاتا ہے۔لیکن یہاںیہ بات ذہن میں رہے کہ ایلوپیتھی میں اس کے لئے کوئی مستقل علاج نہیں۔

البتہ طبِ اسلامی میں اس کا علاج ہے۔اور مریض صحت یاب بھی ہو جاتاہے۔ ذیابیطس کے مریض کے لئے بنیادی بات یہ ہے کہ اس کی خوراک صرف دودھ اور سبزیوں پر مشتمل ہونی چاہئے۔اسے کم کیلوریز اور کم فیٹس والی اعلیٰ کوالٹی کی قدرتی الکائن غذائیں کھانی چاہیں۔فروٹ، بادام، اخروٹ، سبزیاں، ان چھنے آٹے کی روٹی اور ڈیری کی مصنوعات ذیابیطس کے مریض کے لئے اچھی غذاہوتی ہے۔ان کے کھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں حتی المقدور خشک حالت میں کھایا جائے تاکہ ان کے ہضم ہونے کی اولین شرط یعنی لعاب دہن کا شامل ہونا پوری ہو سکے۔شوگر کے مریضوں کو شوگر اور نشاستہ دار تازہ سبزیوں اور فروٹ کھانے سے نہیں ڈرنا چاہئے۔تازہ پھلوں میں قدرتی شکر ہوتی ہے۔جسے جزوبدن بننے کے لئے انسولیندرکار نہیں ہوتی اور مریض اسے نہایت آسانی سے برداشت کر سکتا ہے۔ روغنیات اور تیل کم تعداد میں استعمال کرنے چاہیں۔کیونکہ یہ پروٹین اور نشاستہ کے لئے اس کی حدِبرداشت کو کم کر دیتے ہیں۔مریض کوکچی خوراک زیادہ کھانی چاہئے کیونکہ یہ انسولین کی پیداوار کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔

پکی ہوئی نشاستہ دار غذاؤں سے پرہیز کرنی چاہئے کیونکہ پکانے کے دوران نشاستہ کے دانوں کے خلوی غلافپھٹ جاتے ہیں جس کی وجہ سے نشاستہ آسانی سے ہضم نہیں ہو سکتا اور غیر ہضم شدہ زائدنشاستے سے نجات پانے کے لئے گُردوں کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور پیشاب میں شوگر آنے لگتی ہے۔تاہم کچی نشاستہ دار اشیاء کھانے کی صورت میں لعاب اورچھوٹی آنت کے جوس جسم کی ضروریات کے مطابق نشاستے کو شوگر میں تبدیل کر لیتے ہیں۔غیر ہضم شدہ اور غیر استعمال کردہ کچی نشاستہ دار غذائیں جسم کے لئے نقصان دہ نہیں ہوتیں کیونکہ وہ جلدی خمیر نہیں بنتیں۔ذیابیطس کے مریض کو زیادہ کھانے سے بھی پرہیز کرنا چاہئے ۔دن میں تین بارزیادہ مقدار میں کھانے کے بجائے مریض کو چار پانچ بار تھوڑا تھوڑا کھانا، کھانا چاہئے۔کسی قسم کا گوشت نہیں کھانا چاہئے کیونکہ یہ خون میں زہریلے مادوں کو شامل کرنے کا سبب بنتا ہے۔اس کی وجہ سے جسم میں شوگر برداشت کرنے کی اہلیت کم ہو جاتی ہے۔

اس کے برعکس کچی سبزیاں شوگر برداشت کرنے کی اہلیت میں اضافہ کرتی ہیں۔ کلفہ، کھیرا، پیاز، لہسن اور سیم پھلی شوگر کے مریضوں کے لئے انسولین کا نعم البدل ہیں اور نہایت مفید کردار ادا کرتے ہیں۔سب پھلیوں کے خول  میں سلیکاکی خاصی مقدار ہوتی ہے اور ہارمونز کا ایسا مادہ بھی پایا جاتا ہے جو انسولین کے قریب تر ہے۔سیم پھلی سے بنی ہوئی چائے کا ایک کپ انسولین کے ایک یونٹ کے برابر ہوتا ہے۔کھیرے میں بھی ایک ایسا ہارمون موجود ہے جو انسولین پیدا کرنے کے لئے لبلبہ کے خلیوں کو درکار ہوتا ہے۔پیاز اور لہسن ذیابیطس کے مریضوں کی بلڈ شوگر کم کرنے کے لئے بڑے مفید ہوتے ہیں۔ کالے جامن کھانا بھی لبلبہ پر بڑے اچھے اثرات ڈالتا ہے۔اس کا رس اور گٹھلیاں بھی ذیابیطس کے مریض کو کافی فائدہ پہنچاتی ہیں۔ گٹھلیوں میں گلوکوسائیڈ ہوتی ہے جو نشاستے کو شوگر میں تبدیل ہونے سے روکتی ہے۔ان گٹھلیوں کو پاؤڈر بنا کر رکھ لیں اور پھر اس پاؤڈر کو تھوڑا سا دودھ، دہی یا لسی کے ساتھ کھا لیں اس سے مریض کو کافی فائدہ ہو تاہے۔

موجودہ طب جدیدؔ کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کریلہ ذیابیطس کے علاج میں نہایت مفید کردار ادا کرتاہے کیونکہ اس میں انسولین سے ملتا جلتا ایک مادہ پایا جاتا ہے جو خون اور پیشاب میں شوگر کی مقدار کم کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ طبیب کریلے کا استعمال غذا کے طور پر شوگر کے مریضوں کو باقاعدگی سے کرنے کے لئے مشورہ دیتے ہیں۔زیادہ بہتر نتائج حاصل کرنے کے لئے شوگر کے مریضوں کو چار پانچ کریلوں کا پانی روزانہ صبح نہار منہ پینا چاہئے۔کریلوں کے بیج کا سفوف بنا کر غذا میں شامل کرنا بھی بہتر ہے۔شوگر کے مریضوں کو کریلوں کو ابال کر اس کا جوشاندہ پینا بھی مفید ہے یا پھر کریلے سکھا کر اس کا سفوف استعمال کریں۔شوگر کے زیادہ تر مریض عموماٌ ناقص غذائیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔کریلہ چونکہ تمام ضروری معدنی اجزاء اور وٹامنز بالخصوص وٹامن A,B1,B2,C اور آئرن رکھتا ہے۔اس لئے اس کا باقاعدہ استعمال بہت سی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔جن میں ہائی بلڈپریشر، آنکھوں کے امراض، اعصاب کی سوزش اور کاربوہائیڈریٹس کا ہضم نہ ہونا شامل ہے۔کریلوں کا استعمال انفیکشن سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

پاکستان کی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ایک سائنس دان ؔ نے اپنی ایک تحقیق کے سلسلہ میں ایک رپورٹ میں لکھا کہ اگر کریلے کو ذیابیطس میں کافی عرصہ تک استعمال کیا جائے تو خون میں شوگرکی مقدارکم ہونے لگتی ہے۔کریلے کا پاؤڈر درمیانی عمر کے شوگرکے مریضوں کو کھانے کے لئے دیا گیا۔ان مریضوں کو تین ماہ سے لے کر دس سال کی مدت سے شوگر کی بیماری تھی۔اس پاؤڈر کو دودھ کے ساتھ استعمال کرایا گیا۔ نتائج سے پتہ چلا کہ تمام مریضوں کے خون میں شکر کی مقدار میں مسلسل کمی ہوئی اورذیابیطس کی تمام علامات میں افاقہ محسوس کیا گیا۔ پیشاب میں شکر کا اخراج تو تیسرے روز ہی کم ہو گیا تھا اور سات روز بعد پیشاب میں شکر کا اخراج بالکل ختم ہو گیا۔ان تجربات کی روشنی میں شوگر کے مریض کو غذا میں کریلے کا استعمال زیادہ کرنا چاہئے۔شوگر کے علاج کے لئے اہم ترین غذامینگنیز ہے جو قدرتی انسولین پیدا کرنے کے لئے ازحد ضروری ہے۔یہ ترشادہ پھلوں، اخروٹ، بادام، آٹے کی بھوسی وغیرہ میں ہوتی ہے اور ان مریضوں کو چائے، کافی اور کوک سے پرہیز ضروری ہے کیونکہ یہ چیزیں ہاضمہ پر برا اثر ڈالتی ہیں۔اسی طرح وائٹ بریڈ، سفید آٹے یا میدے کی مصنوعات، چینی، مٹھائیوں، چاکلیٹ، کچوری، سموسہ اور ڈبہ بند پھلوں سے مکمل پرہیز کرنا چاہئے۔

علاوہ ازیں ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کو قریب نہیں پھٹکنے دینا چاہئے کیونکہ پریشانیاں مرض میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔بعض دفعہ عورتوں میں رحم کے امراض اور ہسٹریا بھی اس مرض کا خاص سبب ہوتے ہیں۔اس مرض میں اگر توجہ سے علاج کیا جائے تو جلد آرام آجاتا ہے۔ورنہ آنکھوں میں موتیا بند ہو جاتاہے اور بعض دفعہ نظر بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ بعض دفعہ دست، شدید کمزوری اور قومائے ذیابیطس سے مریض ہلاک ہو جاتاہے۔اس سلسلہ میں اگر گُردوں میں ورم ہو جائے، پیشاب میں البیومن آنے لگے یا مریض کو تپ دقیا نمونیہ ہو جائے تو انجام خراب ہوتا ہے۔بعض مرتبہ شوگر کے نوجوان مریضوں اور قبض میں مبتلا افراد کو قومائے ذیابیطس کی شکایت ہو جاتی ہے۔اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ پہلے پیشاب کم آتا ہے اور شکر بھی کم خارج ہوتی ہے۔نبض سریع اور کمزور ہوتی ہے۔بدن سرد اور پیٹ میں درد ہوتاہے۔قومائے ذیابیطس کے علاج میں یہ نکتہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر مریض کے منہ سے شکر کی بو آرہی ہے اور خون میں شکر کی زیادتی ہے تو اس کو خون سے اعضاء کی طرف جذب اور تبدیل کرنے کے لئے انسولین کا استعمال نہایت مفید ہے۔اگر خون میں شکر کم ہے تو منہ کے راستے شکر یا وریدی پچکاری کے ذریعے گلوکوز کا استعمال کیا جائے۔شدید شوگر قوما میں مریض کی زندگی اور موت سے جنگ ہوتی ہے جس سے خون کی شکر پر انسولین کی مناسب مقدار سے قابو پا لینا نہایت ضروری ہے، لیکن خون میں شکر کی مقدار کا اندازہ بار بار کیے بغیر انسولین کی زیادہ مقدار جاری رکھنے سے نامعلوم طور پر قومائے ذیابیطس تبدیل ہو کر ہائپو گلائی سیمیا ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے، اس لئے مریض کا بڑی احتیاط سے علاج ضروری ہے۔

جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ یہ مرض لبلبہ کی خرابی سے پیدا ہوتا ہے۔ایلوپیتھک طریقہ علاج میں لبلبہ کی اس خرابی کو دور تو نہیں کیا جاتا البتہ لبلبہ کی خرابی کی وجہ سے انسولین کی جو کمی واقع ہو جاتی ہے اس کو مختلف دواؤں سے پورا کیا جاتا ہے اور پھر جب زیادہ کمی واقع ہو جاتی ہے تو پھر اس کو انسولین کے انجیکشن سے پورا کرتے ہیں۔ دراصل یہ کوئی طریقہ علاج نہیں۔بہر حال ایلوپیتھک طریقہ علاج میں انسولین ذیابیطس شکری کا خاص علاج ہے۔یہ لبلبہ کا جوہر ہے جو آبی محلول کی صورت میں بذریعہ جِلدی انجیکشن استعمال کیا جاتا ہے۔یہ عام طور پر سادہ انسولین، زنک انسولین اور گلوبین انسولین کی صورت میں استعمال ہوتی ہے۔ مقدار انجیکشن5سے10یونٹ شکر کی مقدار کے مطابق کھاناکھانے کے آدھا گھنٹا پہلے صبح و شام بذریعہ جِلدی انجیکشن استعمال کیا جاتا ہے۔اور پھر حالاتِ مرض کے مطابق مقدار آہستہ آہستہ بڑھائی جاتی ہے۔اگر انجیکشن لگانے کے بعد گھبراہٹ یا دل کی دھڑکن معلوم ہو یا آنکھوں کے آگے اندھیرا آجا ئے تو فوراٌ گلوکوز ایک اونس اگر یہ نہ ملے تو دیسی شکر پلائیں یا پھر چینی کا استعمال کرائیں۔اگر انسولین کی مقدارزیادہ حل ہو جائے تو چینی گلوکوز یا شکر کا استعمال کرائیں۔انسولین کا استعمال شروع کرنے سے پہلے اس بات کی پوری کوشش کی جائے کہ غذا میں اصلاح کرنے سے شکر کا آنا موقوف ہو جائے، اس غرض کے لئے مریض کے لئے ایسی غذا تجویز کی جائے جس کی کیلوری طاقت 1500ہو، اس کے بعد غذا جسمانی ضرورت کے مطابق بڑھائی جائے، نشاستہ دار غذاؤں کو ایک دم چھوڑنا ٹھیک نہیں، کیونکہ اس سے مریض کمزور ہو جاتا ہے۔البتہ مریض موٹا ہو توجب تک جسمانی وزن درست نہ ہو جائے یہ پرہیزی غذا جاری رکھی جائے۔معمولی مرض میں صرف اس پرہیزی غذا سے بھی آرام آجاتا ہے۔اگر اس پرہیزی غذا سے فائدہ نہ ہو توپھر انسولین کا استعمال کیاجائے۔اس کی مقدارِانجیکشن مرض کے مطابق دس یونٹ سے چالیس یونٹ یا اسیّ یونٹ تک ہو سکتی ہے، انسولین کا انجیکشن زیرِ جلد کیا جاتاہے۔

انسولین کو ہمیشہ ریفریجریٹر میں رکھنا چاہئے، پر انسولین کا لیبل اور تاریخِ میعاد گزرنے کی دھیان میں رکھ کر اور سولیوشن کی یونٹ بندی کرنی چاہئے۔انسولین کی زیادہ استعمال سے انسولین کا ردِعمل ہو سکتاہے۔مثلاٌ عصبی چڑچڑاپن، کمزوری، بے خوابی اور قوما وغیرہ۔ ردِعمل کو دور کرنے کے لئے چینی کی کوئی ڈلی، بتاشہ اور کنوں اور مالٹے کا رس وغیرہ فوراٌ استعمال کرنا چاہئے۔یونانیؔ طریقہ علاج میں سب سے پہلے مرض کا سبب معلوم کیا جاتاہے پھر اس کے مطابق علاج کیا جاتا ہے۔قبض نہ ہونے دیں۔گڑمار بوٹی طب یونانیؔ میں ذیابیطس شکری کی ایک خاص دوا ہے۔اس بیماری میں غذائیت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ اگر بیماری پہلی سٹیج پر ہو تو اگر صحیح طریقے سے کھانا کھایا جائے تو شکر کنٹرول ہو جاتی ہے۔ ذیابیطس کے مریض کی روزمرہ غذائی ضروریات کا انحصار زیادہ تر مریضوں کے جسمانی وزن پرہوتا ہے۔ غذائی ضروریات میں سے حراروں کی ضرورت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ لہٰذا روزمرہ کھانے میں غذائی اجزاء مثلاً لحمیات، چکنائی، کاربوہائیڈرئیٹس وغیرہ کی مقدار کا تعین مریض کی روزمرہ ضرورت کے حراروں سے کیا جاتا ہے۔

ماہرین غذائیت فربہ جسم ذیابیطس کے مریضوں کے لئے ایسی متوازن غذا تجویز کرتے ہیں جو مریض کے وزن کو اس کے نارمل یا معیاری وزن سے پانچ فیصد کم رکھ سکتے ہیں۔ جبکہ معیاعی وزن والے مریض کے لئے ایسی متوازن غذا تجویز کی جاتی ہے جس میں معیاری وزن کو برقرار رکھنے کے لئے مناسب مقدار میں حرارے موجود ہوں۔ معیاری وزن سے کم وزن والے مریضوں کو ایسی غذا دینی چاہئے جس میں حراروں کی مقدار اتنی ہو کہ مریض کا وزن اس کے معیاری وزن سے پانچ فیصد کم پر ٹھہر سکے۔مثلاً ایک چالیس سال کا آدمی جس کا قد 165 سینٹی میٹر ہو۔تو اس کا معیاری وزن 60 کلوگرام (32پونڈ) ہونا چاہئے اور اگر یہ شخص 75 کلوگرام یعنی فربہ جسم کا ہو تو اس کے وزن کو کم حراروں والی غذا کے استعمال سے 56 کلوگرام تک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر 165 سینٹی میٹر قد والا چالیس سال کا مرد پتلا دبلا ہو اور اس کا وزن 50 کلوگرام ہو تو اس مریض کو نسبتاً زیادہ حراروں والی غذا استعمال کروانا چاہئے تاکہ اس کا وزن 56 یا 57 کلوگرام کے قریب رہے۔ لہٰذا 60 گلوگرام وزن والے فرد کے لئے (60x44) یعنی 2640 حرارے روزانہ کے حساب سے دینے چاہئیں۔ایسا مریض جس کا وزن نارمل یا معیاری ہو اس کی حراروں کی ضرورت کو کاربوہائیڈریٹس سے پورا کرنا ضروری ہوتا ہے لہٰذا حراروں کی معینہ ضرورت پوری کرنے کے لئے تقریباً 175 سے 250 گرام تک کاربوہائیڈریٹس والی غذائیں روزمرہ غذا میں شامل کی جاسکتی ہیں۔

مناسب جسمانی وزن کے لئے ایک گرام لحمیات کی روزانہ مقدار کسی بھی ذیابیطس کے مریض کے لئے ضروری ہے جو اس کی روزمرہ کی ضرورت کو پورا کر سکتی ہے البتہ روزمرہ خوراک میں چکنائی کی مقدار کو کافی حد تک کم کر دینا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ جسم میں پہنچ کر کیٹونز باڈیز میں تبدیل ہو جاتی ہے اور جس رفتار سے یہ کیٹونز عمل میں آتے ہیں اتنی ہی رفتار سے بافتوں میں جذب نہیں ہوتے جس کے نتیجے میں یہ خون میں جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور پیشاب میں بھی ان کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو خطرے کا باعث ہو سکتی ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ حیاتین ب کی کافی مقدار غذاؤں کی شکل میں لیں تاکہ غذا میں موجود کاربوہائیڈریٹس بآسانی جسم میں جذب ہو سکیں۔ اسی طرح حیاتین الف کی مقدار کو کبھی نسبتاً زیادہ مقدار میں مریض کی غذا میں شامل کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔


غذا سے متعلق مزید مشورے:


۔ اگر فربہ جسم کے مریض کے روزمرہ حراروں کی مقدار کو کم کرنے کے بعد بھی پیشاب میں شکر آتی رہے تو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ مریض کی غذا درست نہیں۔ مریض کو ایسی غذا اس وقت تک جاری رکھنی چاہئے جب تک اس کا وزن معیاری وزن سے پانچ گنا کم نہ ہو جائے۔
۔ جب وزن پانچ فیصد کم ہو جائے تو اتنے حراروں والی غذا دیتے رہنا چاہئے جس سے اس کا وزن برقرار رہ سکے۔
۔ زیادہ فربہ مریض کی غذا سے شکری مرکبات کو کم سے کم کر دینا چاہئے۔
زیابیطس کے مریض کی روزمرہ مدد کے لئے مختلف غذاؤں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق غذاؤں کا چناؤ کر سکیں:
مکمل پرھیز والے کھانے:
شکر، گڑ یا ان سے تیار شدہ تمام کھانے مثلاً کیک، بسکٹ، جام، مٹھائی، چاکلیٹ، کھیر، حلوہ، برفی، زردہ، سیویاں، آلو والے پکوڑے اور گجریلا۔
وہ کھانے جو آپ نارمل مقدار میں کھا سکتے ہیں:
ہر قسم کا گوشت، مچھلی، انڈے، سبزیاں، گوبھی، پالک، کدو، بینگن، ٹماٹر، مولی، گاجر، کریلہ، بھنڈی، پنیر، اچار وغیرہ

وہ غذائیں جو کم مقدار میں کھانی چاہئیں:
عام طور پر ڈبل روٹی، چاول، دالیں، اناج وغیرہ


انسولین شوگر کا علاج نہیں


آخر میں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ لبلبہ وغیرہ کی رطوبت ہی انسولین کہلاتی ہے ۔جب لبلبہ کمزور ہو جاتا ہے تو اس کی یہ رطوبت چونکہ کم پیدا ہوتی ہے، لہٰذا یہ پوری مقدار میں خون میں شامل نہیں ہوتی۔اس وجہ سے ذیابیطس شکری کی بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔اگر لبلبہ وغیرہ درست ہو کار دوبارہ اپنی انسولین بدن کو سپلائی کرنا شروع کر دے تو شوگر کا مستقل علاج ہو سکتا ہے۔
لیکن طب جدیدؔ میں انسولین لبلبہ کی رطوبت کے طور پر خون میں داخل کی جاتی ہے جس سے عارضی افاقہ ہوجاتا ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ غدد جاذبہ کے فعل کو ادویات سے اعتدال پر لایا جاتا جس سے لبلبہ خود اپنی انسولین بنا کر خون میں داخل کرتا اور انسولین کی کمی پوری ہوتی رہتی لیکن اب جبکہ بنی بنائی انسولین بذریعہ انجیکشن خون میں چلی جاتی ہے تو لبلبہ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ انسولین بنائے۔
لہٰذا وہ باربار مصنوعی انسولین ملنے کی صورت میں پہلے سے بھی زیادہ ناکارہ اور کمزور ہو جاتا ہے۔اورجوپہلے تھوڑی بہت انسولین بناتا تھا اب وہ بھی نہیں بناتا۔یہی وجہ ہے کہ جس شخص کو ایک دفعہ انسولین لگنی شروع ہو جاتی ہے تو اس کو تمام عمر کا روگ لگ جاتا ہے۔چونکہ غدد جاذبہ (لبلبہ)مسلسل کمزور ہوتے جاتے ہیں۔اس لئے انسولین کی مقدار مسلسل بڑھانی پڑتی ہے ۔اگر کم کرنے کی کوشش کی جائے تو پھر اسی طرح پیاس، گھبراہٹ، بے چینی اور کثرتِ بول کی شکایت ہو جاتی ہے اور پہلے سے بھی زیادہ شوگر کا اخراج ہونے لگتا ہے۔